موسمیاتی تبدیلی: ’فوری اور شدید اقدامات کی اشد ضرورت‘

0
713

یہ شاید حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پیش کی جانی والی متنازع ترین رپورٹ ہو۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دنیا بھر کے بہترین ماہرین جنوبی کوریا میں جمع ہیں اور وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس صدی میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو اوسطً ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ سے کم کیسے رکھا جا سکتا ہے۔

1850 کی دہائی کے بعد سے عالمی درجہ حرارت پہلے ہی ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

اگر ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز ہو گیا تو بہت سے ذیلی سطح والے ممالک زیرِ آب آ جائیں گے۔

شہر اِنچن میں ایک ہفتے تک جاری بات چیت کے بعد محققین ایک نئی رپورٹ شائع کریں گے جس میں توقع یہی ہے کہ اس حد سے نیچے رہنے کے لیے حکومتوں سمیت ہمیں انفرادی طور پر بھی فوری اور شدید اقدامات کرنے ہوں گے۔

اس رپورٹ کے لیک ہونے والے مسودے کے مطابق عالمی درجہ حرارت ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کی حد 2040 میں پار کر جائے گا۔ اس رپورٹ کو ’زندگی بدلنے والی‘ رپورٹ کہا جا رہا ہے۔

ایک سائنسدان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر دنیا کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کو روکنا ہے تو ہماری زندگیوں میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔

یہ نئی تحقیقی رپورٹ آئی پی سی سی نامی تنظیم جاری کر رہی ہے جو کہ ایک بین الاقوامی پینل ہے جس کا مقصد حکومتوں کو موسمیاتی تبدیلی کی وجوہات، اثرات، اور حل کے بارے میں واضح سائنسی تناظر پیش کرنا ہے۔

دسمبر 2015 میں جب موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پیرس معاہدہ طے پایا تو بہت سے لوگ خوش اور حیران ہوئے تھے کہ رکن ممالک اس بات پر متفق ہو ہو گئے تھے کہ اس معاہدے کا طویل مدتی ہدف یہ ہونا چاہیے کہ عالمی درجہ حرارت میں اوسطً اضافے کو صنعتی انقلاب سے قبل کی سطح سے صرف دو ڈگری سینٹی گریڈ اوپر جانے دیا جائے اور کوششیں کی جائیں کہ اس کی حد ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک ہی رہے۔

اقوام متحدہ نے اس وقت آئی پی سی سی سے کہا تھا کہ وہ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری کی حد کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ پیش کریں جو کہ تنظیم ابھی شائع کرنے والی ہے۔

اس ہفتے انچن کے شہر میں سائنسدان اور حکومتی نمائندے اس رپورٹ کا ایک خلاصہ پیش کریں گے جو کہ 15 صحفات پر مبنی ہوگا۔ اس میں رپورٹ کے اہم ترین نکات اور نتائج شیئر کیے جائیں گے۔

اس اجلاس میں یہ خلاصہ لفظ بہ لفظ تیار کیا جائے گا تاکہ سائنسدانوں اور حکومتی اراکین میں مکمل طور پر اتفاقِ رائے ہو۔

یہ رپورٹ آئندہ دہائیوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے تناظر میں حکومتوں کی جانب سے اپنی معیشتوں کو بہتر بنانے میں رہنمائی کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here