سی پی این ای (سندھ) کے وفد کی صدر کراچی کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی سی) بریگیڈیئر عابد عسکری سے ملاقات

0
69

پریس ریلیز

تاریخ: 16 ستمبر 2020ء

کراچی ( ) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) سندھ کے صدر اکرام سہگل کی قیادت میں سی پی این ای کے وفد نے گزشتہ روز کمانڈر اسٹیشن ہیڈ کوارٹر اور صدر کراچی کنٹونمنٹ بورڈ (سی بی سی) بریگیڈیئر عابد عسکری سے ملاقات کی۔ اس موقع پر DHA کے ایڈمنسٹریٹر بریگیڈیئر عاصم اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ (CBC) کے ایڈمنسٹریٹر سلیم وٹو بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سی پی این ای سندھ کے صدر اکرام سہگل نے DHA سمیت کراچی میں قائم تمام کنٹونمنٹ بورڈز کے علاقوں میں حالیہ بارشوں کے سبب پیش آنے والے مسائل اور رہائشیوں کی مشکلات سے آگاہ کیا۔ کمانڈر اسٹیشن ہیڈ کوارٹر بریگیڈیئر عابد عسکری نے وفد کو بتایا کہ حالیہ مون سون کی پانچ بارشوں میں جکاسی آب کے سسٹم نے ٹھیک کام کیا لیکن چھٹی مرتبہ 440 ملی میٹر کی ریکارڈ بارش سے تمام نالے بھر گئے۔ DHA اور کلفٹن کے ساحل سے متصل ہونے کے باعث دیگر علاقوں کا پانی بھی ڈیفنس اور کلفٹن میں آگیا۔ CBC نے اپنے پمپس کے علاوہ فوری طور پر واٹر باؤذر مارکیٹ سے ٹھیکے پر لیئے اور 6 دن کی مسلسل جدوجہد کے بعد پانی نکالا جبکہ تاحل چند علاقوں میں ابھی تک نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے۔ DHA کا فیز 6 کافی بڑا ہے اس لئے وہاں مشکلات بھی پیش آئیں، اس دوران رہائشیوں اور دیگر مشتعل افراد نے مظاہرے بھی کئے توڑ پھوڑ کے علاوہ پولیس افسران اور سی بی سی کے عملے کو زدوکوب کر کے حالات کشیدہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن سی بی سی کے چیف ایگزیکٹو نے بر وقت پہنچ کر معاملات کو سنبھالا۔ اشتعال انگیزی کے دوران تقریباً 354 مظاہرین سے نشاندہی پر صرف 22 مشتعل افراد پر ایف آئی آر درج کی گئی، جن افراد پر ایف آئی آر درج ہوئی ہے ان میں رہائشی کم ہیں بلکہ بلڈرز اور اسٹیٹ ایجنٹ زیادہ ہیں۔ انہوں نے فراہمی آب کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 1999ء میں سروے کے مطابق 3ملین گیلن پانی کی طلب تھی لیکن اب 16ملین گیلن کی طلب پر واٹر بورڈ سے صرف 5.5 ملین گیلن پانی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کنٹونمنٹ بورڈ میں افسران کے علاوہ عوامی نمائندے بھی ہوتے ہیں جو حلقہ بندیوں اور انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور کنٹونمنٹ بورڈ کی تمام فیصلہ سازی میں شریک ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر DHA بریگیڈیئر عاصم نے کہا کہ ڈیفنس میں نکاسی آب کا فیز1منصوبہ عدالتی حکم امتناعی کے باعث تعطل کا شکار ہے جبکہ فیز 2 نکاسی سسٹم کے منصوبے پر ٹھوس اقدامات اٹھاتے ہوئے ہائیڈرو گرافک اسٹڈی کر رہے ہیں اور ڈی فلٹریشن پلانٹس بھی بنا رہے ہیں ہمیں امید ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے پانی کی فراہمی اور نکالی سے متعلق تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ CBC کے ایڈمنسٹریٹر سلیم وٹو نے کہا کہ حالیہ بارشوں سے بھاری نقصان ہوا ہے۔ CBC کے عملے نے 24 گھنٹے مسلسل کام کیا اور کئی افراد کو ریسکیو کیا اور گاڑیاں نکالیں۔ ماضی میں مون سون کی کمی کے باعث نکالی کے نئے منصوبے بھی نہیں بن سکے لیکن ہر دو سے تین سالوں میں نالوں کی صفائی ہوتی ہے۔ سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے کہا کہ حالیہ بارشیں عام نہیں تھیں بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں، بدقسمتی سے ہمارے یہاں موسمیاتی تبدیلی پر توجہ نہیں دی گئی جبکہ یورپ اور گلف ممالک میں اس پر بہت کام ہوا ہے، اس سلسلے میں سی پی این ای نے عوامی آگاہی مہم کے ذریعے وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتوں کو آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پانی نہیں ہے تو واٹر ٹینکر کہاں سے پانی بھرتے ہیں، یہ ایک مافیا بن چکا ہے ان کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو سنگل چین آف کمانڈ کے ذریعے چلایا جائے اور DHA سمیت دیگر کنٹونمنٹ بورڈز کو انوائرنمنٹل بنیادوں پر بنایا جائے۔ ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود نے عبدالخالق عالی نے کہا کہ 2007ء میں بھی شدید بارشیں ہوئی تھیں موجودہ بارشیں بلاشبہ تباہ کن ہوئی ہیں جس کے باعث معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوگیا ہے۔ مقصود یوسفی نے کہا کہ DHA اور کنٹونمنٹ بورڈز انتظامیہ حالیہ تباہی کے تناظر میں رہائشیوں کو ریلیف دیں اور پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائیں۔ شیر محمد کھاوڑ نے کہا کہ اندرون سندھ میں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے پانی کے قدرتی طور پر چھوٹے بڑے ریلے گزرتے ہیں لیکن ٹھوس پیش بندی نہ ہونے سے بارشوں کا پانی ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ تباہی کا باعث بھی بن رہا ہے۔ متعدد پیش گوئیوں کے باوجود حالیہ بارشوں سے قبل کوئی بھی صفائی کے اقدامات نہیں کئے گئے جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔ DHA انتظامیہ ہر رہائشی سے کسی بھی مرمتی کام کے پہلے پیشے وصول کرتا ہے جبکہ DHA اور کنٹونمنٹ بورڈز کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ DHA اور CBCکے بھاری بھرکم بلوں کے باوجود رہائشیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مظفر اعجاز نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ فیصل کے کئی علاقوں میں تاحال بارشوں کا پانی جمع ہے جس سے رہائشی کو شدید مشکلات سمیت املاک بھی تباہ ہو رہی ہیں۔ سی پی این ای کے وفد میں سی پی این ای سندھ کے صدر اکرام سہگل، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، ڈپٹی سیکریٹری جنرل عامر محمود، سینئر اراکین مقصود یوسفی، غلام نبی چانڈیو، عبدالرحمان منگریو، مظفر اعجاز، عبدالخالق علی، شیر محمد کھاوڑ، عارف بلوچ، محمد عرفان اور سلمان قریشی شامل تھے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here