سی پی این ای کا علاقائی اور مقامی اخبارات کے کوٹے کے خاتمہ کی اطلاعات پر اظہار تشویش

0
25

کراچی ()کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای) عہدیداران اور اراکین نے علاقائی ، مقامی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کا 25 فیصد کوٹہ ختم کرنے کی تجویز پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ علاقائی ، مقامی اور چھوٹے اخبارات صحافیوں کے لیے نرسری کی مانند ہیں، اگر معاشی بحران کے سبب علاقائی ، مقامی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخباری اداروں کو بندش کا سامنا کرنا پڑا تو، ہزاروں صحافیوں اور میڈیا ملازمین سے ان کا نہ صرف روز گار چھن جائے گا بلکہ علاقائی صحافیوں کو آگے بڑھنے کے مواقعے بھی ختم ہوجائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں مشترکہ صدارت کے دوران ارشاد احمد عارف اور حافظ ثناء اللہ نےکیا ۔اجلاس میں ملک بھر کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین نے بذریعہ ویڈیو لنگ شرکت کی۔ اجلاس میں منظور کی جانے والی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ، علاقائی ، مقامی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات ہزاروں مقامی صحافیوں اور میڈیا ملازمین کے لیے عملی درس گاہ کی اہمیت رکھتے ہیں ، اگر یہ نہیں ہوں گے تو ملک میں ذمہ دار اور غیر جانب دار صحافت کا تصور ختم ہوجائے گا۔ وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز کے مطابق علاقائی و مقامی اخبارات کسی بھی ملک کے لیے رنگ و خوشبو کی طرح ہوتے ہیں، پھر حکومت ان کا سرکاری اشتہاراتی کوٹہ ختم کر نے سے ملک بھر کے مزید ہزاروں صحافیوں اور دیگر میڈیا کارکن بے روزگار ہو جائیں گے۔ سی پی این ای کے تمام عہدیداران و اراکین حکومت کے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
سی پی این ای کا مزید کہنا ہے کہ، حکومت اور ریاست کو علاقائی ، مقامی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات و جرائد کی اہمیت تسلیم کرنی چاہئے کہ ملک کے چند بڑے شہروں میں موجود مین اسٹریم میڈیا کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے سینکڑوں اضلاع، شہروں اور علاقوں میں پھیلے ہوئے متحرک اور حقیقی مقامی اخبارات و جرائد بھی معاشرے پر گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
سی پی این ای نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اشتہارات میں علاقائی ، مقامی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کے لئے مختص 25 فیصد کوٹے کو برقرار رکھتے ہوئے اس پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ یہ اقدام ملک کے صحافیوں ، معاشی و سماجی اور شعوری ادراک کے لیے علاقائی و مقامی میڈیا اور اخبارات و جرائد کو اپنے اہم کردار کی ادائیگی میں انتہائی معاون ثابت ہوگا۔ اجلاس میں اے جی پی آر سے وینڈر اکاونٹس کے اجراء میں درپیش مسائل ، پی آئی ڈی بلوں کی عدم ادائیگیوں اور گزشتہ چند ماہ سے بلوچستان کے مقامی و حقیقی اخبارات کی بجائے ڈمی اخبارات کو سرکاری اشتہارات کے اجراء پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جس سے نہ صرف علاقائی ، مقامی ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اخبارات کی بلکہ صحافیوں کی بھی حق تلفی ہو رہی ہے۔وہاں کورونا وباء کی اس سنگین صورتحال کے دوران صحافیوں کو معاملات زندگی میں شدید پریشانیوں کا سامنا ہے ایسے میں حکومت کی جانب سے یہ اقدام باعث اضطراب ہے۔
اجلاس میں سالانہ انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے تمام اراکین اس نقطہ پر متعفق نظر آئے کہ آئندہ انتخابات کا انعقاد کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔ تاہم اجلاس میں اخبارات کو نئی رکنیت فراہم کرنے کے حوالے سے فئصلہ کیا گیا ہے کہ، اخبارات کی تصدیق کے لیے ایک ریجنل کمیٹی تشکیل دی جائےگی ، جس کی تجاویز کی روشنی میں اسکروٹنی کمیٹی رکنیت فراہم کرنے کے حوالے سے فیصلہ کرئے گی ۔ ارشاد احمد عارف نے اس تمام مراحل میں شفافیت اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ، حق دار کو اس کا حق میئسر ہونا چاہئے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ، جو حقیقی اخبارات تما م ضوابط و شرایت پر اترتے ہیں انہیں رکنیت سے محروم نہ رکھا جائے۔
دریں اثناء اجلاس میں سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک ، نائب صدر سردار خان نیازی ، محمد حیدر امین، ڈاکٹر حافظ ثناء اللہ ، عامر محمود ، ایاز خان ، ارشاد احمد عارف ، غلام نبی چانڈیو ، تنویر شوکت ، طاہر فاروق ، شکیل احمد ترابی ، عارف بلوچ ، عبدالرحمان منگریو ، کاظم خان ، اعجاز الحق ، مقصود یوسفی ، عبدالخالق علی ، اشرف سہیل ، بشیر احمد میمن ، خلیل الرحمان ، محمود عالم خالد ، محمد طاہر ، محمد اویس رازی ، محمد عرفان ، شیر محمد کھاوڑ ، تزئین اختر ، وقاص طارق فاروق، یحیٰی خان سدوزئی، ضیاء الرحمٰن تنولی، مشتاق احمد قریشی، اکمل چوہان ، منزہ سہام و دیگر نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here