سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات سندھ کو اخبارات کے دسمبر 2018ء تک کے تمام واجبات کی ادائیگیاں ایک ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیدیا

0
152

نیوز آئٹم
تاریخ: 18 دسمبر 2020ء

سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات سندھ کو اخبارات کے دسمبر 2018ء تک کے تمام واجبات کی ادائیگیاں ایک ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیدیا
ڈائریکٹر انفارمیشن نے سی پی این ای سے وابستہ اخبارات کو ادائیگیاں مکمل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی
عدالت نے اخبارات کو 2018ء تک کے واجبات کی ادائیگیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت 27 جنوری2021ء تک ملتوی کر دی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ اطلاعات سندھ کو سی پی این ای سے وابستہ اخبارات کو دسمبر 2018ء تک کے تمام واجبات ایک ہفتے میں ادا کر کے تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت 27 جنوری 2021ء تک ملتوی کردی۔ یہ حکم سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس ارشد حسین خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپرایڈیٹرز (سی پی این ای ) کی جانب سے اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی دسمبر 2018ء تک کے واجبات کی سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود واجبات کی عدم ادائیگیوں سے متعلق حکومت سندھ کے خلاف دائرکی گئی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر انفارمیشن عزیز احمد ھکڑو نے عدالت میں پیش ہو کر سی پی این ای سے وابستہ اخبارات کے دسمبر 2018ء تک کے تمام واجبات ادا کرنے کی یقینی دہانی کراتے ہوئے عدالت سے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی۔ مزید برآں سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت میں محکمہ اطلاعات سندھ کی جانب سے اشتہاراتی ایجنسیوں کو دی گئی ادائیگیوں کی فہرست بھی نامکمل اور مبہم ہے۔ عدالت نے محکمہ اطلاعات سندھ کو سی پی این ای سے وابستہ اخبارات کو دسمبر 2018ء تک کے تمام بقایاجات ایک ہفتے میں ادا کرنے اور اشتہاراتی ایجنسیوں کواخبارات کی مد میں کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیلی رپورٹ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت 27 جنوری 2021ء تک ملتوی کر دی۔سی پی این ای کی جانب سے غلام محمد درس ایڈووکیٹ نے پیروی کی جبکہ سماعت میں سی پی این ای کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک اور سابق سیکریٹری جنرل اعجازالحق بھی موجود تھے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here