سی پی این ای نے “پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ 2020ء” جاری کر دی

0
1217

پریس ریلیز۔۔۔ 31، جنوری 2021ء

سال 2020ء میں پاکستان میں میڈیا فریڈم کو دشوار چیلنجز کا سامنا رہا

صحافیوں کو غائب کرنے، ہراساں کرنے اور جسمانی تشدد کے بے شمار واقعات پیش آئے

ملک بھر میں کم از کم 10 صحافی قتل جبکہ متعدد صحافی مختلف انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنے

کورونا وباء سے بھی کم و بیش 8 صحافی زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد نے کورونا کو شکست دی

آزادی صحافت شدید دباؤ کا شکار رہی، سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین بنائے گئے

کراچی ( پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے ”پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ برائے سال 2020ء” جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2020ء کا عرصہ پاکستان کے صحافیوں، دیگر میڈیا کارکنوں اور میڈیا اداروں کے لئے انتہائی نا مساعد صورتحال پر مبنی تھا اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے نئے اور مختلف چیلنجز درپیش رہے۔ سال 2020ء میں مختلف ریاستی اور حکومتی اقدامات اور کاروائیوں کے ذریعے متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 10صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ سال بھر میں صحافیوں پر مقدمات اور گرفتاریوں سمیت صحافیوں کو غائب کرنے کے واقعات، نا معلوم فون کالز کے ذریعے ہراساں کرنے کے واقعات، آن لائن ہراساں کرنے کے واقعات، ادبی مواد پر نشانہ بنائے جانے سمیت مختلف واقعات میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہلخانہ بھی جسمانی حملوں اور اذیت کا شکار ہوئے۔میڈیا ہاؤسز کی بندش اور سوشل میڈیا پر کنٹرول کرنے کے لئے بھی قانون سازی کے ذریعے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے گئے۔ علاوہ ازیں وبائی مرض کورونا وائرس کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح پاکستانی میڈیا پر بھی اس وباء کے براہ راست اثرات ہوئے جس کے سبب میڈیا کارکنوں کو بھی سنگین مالی و معاشی مسائل اور زندگی کے خطرات درپیش رہے۔
رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں کم از کم 8 سے زائد صحافی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم متعدد صحافی کوویڈ 19 کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ میڈیا سے منسلک تمام افراد نے ملک میں کوویڈ 19 کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لئے سخت جدوجہد کی۔ چونکہ میڈیا کارکنوں اور صحافیوں کا فرائض انجام دینے کے لئے صف اول میں رہنا لازمی تھا لہٰذا انہیں اکثر اوقات رپورٹنگ اور نیوز کوریج کی خاطر کورونا کے شکار افراد سے رابطہ کرنا پڑا اور ان کے علاج پر مامور افراد سے بھی رابطے میں آنا پڑا چنانچہ کورونا کی کوریج کے دوران صحافیوں اور کیمرہ مین و دیگر افراد بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اس وبا کا شکار ہوئے جن میں 9 صحافی اس مہلک وباء کے خلاف جنگ لڑتے لڑتے زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔ میڈیا کارکنوں و صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی بجا آوری میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دیگر مزید چیلنجز کا سامنا بھی رہا مثلاً وبائی صورتحال کی کس طرح رپورٹنگ کی جائے، خبروں کی تصدیق بھی ایک پیچیدہ عمل تھا کیونکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی جعلی خبروں کا انبار موجود تھا۔ اعداد و شمار کی درستگی بھی ایک اہم مسئلہ تھا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر لاک ڈاؤن کے سبب معاشی مسائل کا بھی میڈیا کارکنوں اور میڈیا اداروں کو سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2020ء میں مختلف ریاستی اور حکومتی اقدامات اور کاروائیوں کے ذریعے متعدد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ مختلف واقعات میں صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ان کے اہلخانہ بھی جسمانی حملوں اور اذیت کا شکار ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ساجد حسین، ذوالفقار مندرانی، شاہینہ شاہین، قیص جاوید، جاوید اللہ خان، انور جان کھیتران، عابد حسین عابدی، نور حسن لنجوانی، ملک نظام تانی اور عزیز میمن سمیت کم از کم 10 کو صحافیوں قتل کیا گیا جبکہ متعدد صحافیوں کو اغواء، تشدد اور دھمکی آمیز فون اور آن لائن پیغامات موصول ہوئے، نہ صرف غیر ریاستی عناصر بلکہ ریاستی اداروں کی جانب سے بھی براہ راست جسمانی طور پر ہراساں اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومتی عہدیداروں اور دیگر سرکاری محکموں نے صحافیوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کئے۔
سی پی این ای کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں صحافیوں کو ماورائے عدالت اور انتہائی سفاکی سے قتل کیا جاتا ہے اور ان کے قاتلوں کو غیر اعلانیہ استثنیٰ بھی مل جاتا ہے۔ صحافیوں اور میڈیا ورکروں کے کسی ایک بھی قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ ملک میں ایسی فضا رہی جیسے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں پر حملے کرنے والوں کو سزا سے استثنیٰ حاصل ہو۔ ملک کا قانونی نظام صحافیوں کے دفاع و انصاف فراہم کرنے میں بے سود ثابت ہو رہا ہے جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد سے دن دہاڑے اغوا کیا گیا۔ صحافی علی عمران سید جو جیوز نیوز سے وابستہ ہیں 23اکتوبر کی شام ضلع مشرقی کراچی سے لاپتہ ہوگئے۔ صحافی احمد نورانی کو ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور اس کے رشتہ داروں کے کاروبار کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ شائع کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ صحافی تراب شاہ آفریدی کو دھمکی آمیز کال کرنے والے کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی لیکن وسائل کی کمی کی وجہ بتا کر مقامی پولیس نے تحقیقات روک دی۔ سینئر صحافی محمد حنیف اور سہیل وڑائچ کی کتابیں لاہور اور کراچی میں حکام کی جانب سے ضبط کی گئیں۔ پاکستان رینجرز کے اہلکاروں نے کراچی پریس کلب کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے 27 جولائی 2020ء کو چھاپہ مارا۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اینکر پرسن شاہ زیب خانزادہ اور وسیم بادامی پر ہتک عزت کا مقدمہ کرتے ہوئے دونوں صحافیوں کو ایک ایک ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا، ان کا مؤقف تھا کہ دونوں اینکرز نے اپنے پروگراموں میں جھوٹا الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قمیتوں کے ذمہ داروں میں شوگر مافیا سمیت جہانگیر ترین بھی اجتماعی طور پر شامل ہیں۔
سال 2020ء میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے متعدد موقعوں پر ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کر کے اور غیر ضروری طور پر قانون سازی کے ذریعے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں میڈیا کمیونٹی میں شدید تشویش اور سراسیمگی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ پیمرا کی جانب سے ٹی وی چینلز کو آخری نمبروں پر منتقل کر دیا گیا اور 20 ستمبر کو ہونے والی پی ڈی ایم ریلی/ جلسے کے دوران نشریات کو روک دیا گیا۔ بعدازاں پیمرا نے مفرور ملزمان کی تقاریر، مختلف سیاسی رہنماؤں کے انٹرویوز اور عوامی خطابات کی نشریات کو غیر قانونی قرار دے کر مکمل طور پر پابندی عائد کر دی۔ ایک اور واقعے میں خواتین کے عالمی دن کی رپورٹنگ کے حوالے سے پیمرا نے تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ 8مارچ کو ہونے والی عورت مارچ کی کوریج کے دوران نعرے، پلے کارڈ اور تقاریر نشر نہ کئے جائیں۔ 25 جون کو پیمرا نے کوویڈ 19 کی کوریج اور رپورٹ کے حوالے سے بھی تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کو ہدایت نامہ جاری کیا۔ پیمرا نے تمام نیوز چینلز کو لاہور موٹر وے عصمت دری کے معاملے پر کوریج کرنے سے بھی روک دیا۔
روایتی میڈیا کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ ویب ٹی وی اور اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) مواد کی ترسیل اور تشہیر کے مختلف قواعد و ضوابط کے ذریعے نئے میڈیا (سوشل میڈیا) کو بھی کنٹرول کرنے کے لئے کوششیں کی گئیں جسے سی پی این ای سمیت 18 سے زائد تنظیموں نے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور اسے غیر آئینی اور متعصبانہ اقدام قرار دیا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ملک میں موجود سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان چھوڑنے کے ارادے کا اظہار کیا کیونکہ اس سے آن لائن میڈیا پر قدغنوں سے آزادی اظہار رائے کی صورتحال سنگین ہو گئی، بعدازاں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سوشل میڈیا قوانین پر نظرثانی کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ 18 نومبر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے سوشل میڈیا کے ”غیر قانونی آن لائن مواد کو ختم کرنے اور مسدود کرنے (ضابطے، نگرانی اور حفاظتی اقدامات) کے قواعد 2020ء ” کے عنوان سے قانون تشکیل دیا جس کے خلاف 18دسمبر کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تاہم اس قانون کے نفاذ کے بعد حکومت کو ڈیجیٹل مواد پر پابندی جاری رکھنے کا قانونی اختیار مل گیا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ”غیر اخلاقی مواد” کے خلاف شکایات پر ”ٹک ٹاک” کو ملک بھر میں ممنوع قرار دے کر پابندی عائد کر دی۔ حکام کے اس فیصلے پر صارفین نے بھرپور مخالفت اور زبردست احتجاج کیا جس پر انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانی کے بعد پی ٹی اے کو تفریحی ایپ ”ٹک ٹاک” کو ایک انتباہ کے ساتھ کھولنا پڑا۔
سی پی این ای کی میڈیا رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا کی آزادی، آزادی اظہار رائے، معلومات تک رسائی کے حق، میڈیا بحران اور دیگر امور کے بارے میں بات کرتے وقت صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو درپیش مالی مسائل اور دیگر نا انصافیوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے حالانکہ میڈیا کی آزادی اور صحافتی فرائض کی بجا آوری کے لئے ان مسائل کی نشاندہی اور ان کو حل کرنا انتہائی اہم حیثیت کا حامل ہے۔ میڈیا اداروں کو درپیش مالی اور مختلف مشکلات و مسائل سے بھی پہلو تہی کی جاتی ہے۔
میڈیا کا معاشی بحران نیا نہیں یہ وبائی مرض کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے قبل بھی موجود تھا لیکن کوویڈ 19 کی صورتحال کی وجہ سے یہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ میڈیا ہاؤسز یا ان کے مختلف اسٹیشنوں کی راتوں رات بندش کی وجہ سے ہزاروں صحافی اور میڈیا کارکن بے روزگار ہو گئے۔ بلوچی زبان میں پروگرام نشر کرنے والے واحد نجی ٹی وی چینل ‘وش’ کو بندش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سینکڑوں میڈیا ملازمین اور صحافی بے روزگار ہو گئے۔ صحافیوں کی اکثریت تنخواہوں میں ناقابل برداشت کٹوتی اور تاخیر پر مجبور ہو گئے ہیں۔
میڈیا اداروں کے مسائل میں محصولات میں کمی، سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم اور بعض علاقوں میں چند اخبارات کی ترسیل پر غیر قانونی پابندی جیسے اقدامات آزاد رائے عامہ کو روکنے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ پچھلے سال کے دوران متعدد اخباروں کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔ وفاقی وزارت اطلاعات نے 6 ہزار سے زیادہ اشاعتوں کو ڈمی اخبارات قرار دینے کے بعد ان کی رجسٹریشن معطل کر دی، اس کے ساتھ ہی وفاقی وزارت اطلاعات اور پریس رجسٹرار نے ان تمام پرنٹنگ پریس کو جہاں اخبارات چھپ رہے تھے، رجسٹریشن کی کاروائی مکمل کرنے کے لئے 15 اپریل تک مہلت دی۔ بعدازاں 6 جون کو پریس رجسٹرار کے حکم پر غیر رجسٹرڈ اشاعتوں، پرنٹنگ پریسوں اور خبر رساں اداروں کو بند کر دیا گیا۔
اگست 2020ء میں پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے ریڈیو پاکستان کے 320 ملازمین کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ملازمت سے فارغ کر دیا، بعدازاں 21 اکتوبر 2020ء کو مزید 749 کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات کو کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ختم کر دیا ہے۔
دو میڈیا کارکن تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب معاشی دباؤ برداشت نہ کر سکے اور زندگی کی بازی ہار گئے، ان میں کیپٹل ٹی وی سے وابستہ ایک کیمرہ مین فیاض علی تھا جو بغیر تنخواہ کے نوکری سے نکالے جانے پر شدید صدمہ کے باعث حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گیا، فیاض علی 10ماہ سے بغیر تنخواہ کام کر رہا تھا، جبکہ دوسرا بول نیوز کراچی ہیڈ آفس میں بطور ایسوسی ایٹ پروڈیوسر کام کرنے والا نوجوان معاذ اختر تھا جس نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور گھریلو مسائل سے تنگ آکر 5 نومبر 2020ء کو خودکشی کر لی۔

نوٹ: ”پاکستان میڈیا فریڈم رپورٹ 2020ء” کی مکمل رپورٹ سی پی این ای کی
ویب سائیٹ پر ملاحظہ فرمائیں۔
www.cpne.pk

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپرایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here