حکومت کے امتیازی رویہ سے پرنٹ میڈیا کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا : سی پی این ای

0
99

پریس ریلیز
تاریخ: 02/ اپریل 2021ء

کوئٹہ(پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) بلوچستان کمیٹی کااجلاس انور ساجدی کی صدارت میں ہوا جس میں بڑی تعداد میں اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل ومشکلات کے جائزہ لیا گیا اراکین نے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔ اجلاس نے اس امر پر تشویش کا اظہارکیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کے امتیازی رویہ سے پرنٹ میڈیا کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ باربار توجہ دلانے کے باوجود حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ریجنل اور میڈیم سائز کے اخبارات کی بقاء کے لئے اشتہارات کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے 25فیصد ریجنل کوٹہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ اجلاس میں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ مرکزی طرز پر حکومت بلوچستان بھی اشتہارات کے اجراء کو شفاف بنانے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر جن جن اخبارات کو اشتہارات جاری ہوتے ہیں انہیں ویب سائٹ پر آویزاں کرے کیونکہ اشتہارات قومی ورثہ ہیں انہیں خفیہ رکھنے کی کوئی منطق نہیں۔ سی پی این ای نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرکزی اشتہارات کا اجراء این ایف سی ایوارڈ کی بنیاد پر کیا جائے یعنی آبادی کی بنیادپر قومی وسائل میں صوبوں کا جو حصہ مختص ہے اشتہارات بھی اسی بنیاد پر مختص کئے جائیں۔اجلاس میں سخت تشویش ظاہر کی گئی کہ وفاقی حکومت صرف اور صرف کارپوریٹ میڈیا سیکٹر کی سرپرستی کررہی ہے جبکہ علاقائی اور میڈیم سائز کے اخبارات کو نظر انداز کر کے ان کے قتل عام کا اہتمام کررہی ہے جبکہ ملک میں اب بھی پرنٹ میڈیاکی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر کی رسائی صوبوں ڈویژن اور ضلع کی سطح پر کم ہے اس معاملے میں ریجنل میڈیا عوام کے مسائل صوبائی حکومت اور دیگرمعاملات کو اجاگر کرنے کے لئے اہم کردار ادا رکریں وفاقی حکومت کی روش فیڈریشن کی روح کے منافی ہے اور وہ میڈیا کے ضمن میں وحدانی طرز اختیار کررہی ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پی آئی ڈی کے ریجنل دفاتر کو فعال کیا جائے اور ان کے اختیارات دوبارہ بحال کئے جائیں۔سی پی این ای نے آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے حوالے سے صورتحال کوانتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ مختلف طریقوں سے قد غن جاری ہے معلومات تک رسائی سے مسلسل انکار کیا جارہا ہے۔حکومت پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو آمرانہ طریقے سے کنٹرول کرنے کے لئے نئے قوانین لا رہی ہے حالانکہ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا آج کل جداگانہ چیزیں ہیں دونوں شعبوں کو ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے تابع کرنا آزادی اظہار پر بد تر ین حملہ ہے اگرحکومت نے اس ضمن میں کوئی قدم اٹھایا تو سی پی این ای کے پلیٹ فارم سے اس کی بھر پور مزاحمت کی جائے گی اجلاس میں کہا گیا کہ پرنٹ میڈیا اپنے ویب سائٹس اور نیوز پورٹل کی وجہ سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوگیا ہے آمرانہ قوانین کی اخبارات کے ڈیجیٹل سائٹس پر پراطلاق نہ کیا جائے بصورت دیگر ملک گیر مزاحمت کی جائے گی۔اجلاس میں پی ایف یو جے کے لانگ مارچ کی مکمل حمایت کی گئی اور اسے آزادی صحافت کے لئے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔اجلاس میں سی پی این ای کی نئی رکنیت کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے روزنامہ 92 نیوز کوئٹہ کو ضلعی ایسوسی ایٹ رکنیت دی گئی جبکہ بقیہ درخواستوں کی مزید جانچ پڑتال کے بعد رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں سی پی این ای کے نائب صدر اور بلوچستان کمیٹی چیئرمین انور ساجدی، ڈپٹی چیئرمین اور جوائنٹ سیکریٹری عارف بلوچ، سینئر اراکین رضا رحمان، جاوید احمد، گلریز خان بازئی، منیر احمد بلوچ، نعیم صادق، علی لہڑی، صادق بلوچ، محمد انور خان ناصر، سید ندیم شاہ اور بنارس خان نے شرکت کی۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here