بلوچستان، پرنٹ میڈیا کے ساتھ حکومت کاامتیازی اور غیرمنصفانہ سلوک ناقابل برداشت ہے: سی پی این ای

0
50

پریس ریلیز
تاریخ: 28اپریل 2021ء

کراچی ( ) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدرعارف نظامی اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک نے بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کی صورتحال پر انتہائی تشویش کااظہار کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے باقاعدہ اور پڑھے جانے والے اخبارات کے ساتھ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کاامتیازی اورغیرمنصفانہ سلوک ناقابل برداشت ہوگیا ہے چونکہ بلوچستان کے اخبارات کا دارومدار صرف اور صرف سرکاری اشتہارات پر ہے جس کے بغیر ان کا زندہ رہنا مشکل ہے، دونوں حکومتیں اس صورتحال کو اس طرح استعمال کررہی ہیں کہ صوبہ کے معروف پرنٹ میڈیا زندہ نہ رہیں۔ ایک باقاعدہ پالیسی کے تحت ایک آدھ کارپوریٹ اور باقی ڈمی اخبارات کی سرپرستی کی جارہی ہے، صوبہ کے معروف اور پڑھنے جانے والے اخبارات اشتہارات سے محروم ہیں جبکہ گمنام اور غیرمعروف اخبارات کو اشتہارات سے نوازا جارہا ہے خاص طور پر مرکزی حکومت نے بہت ہی سفاکانہ اور بے رحمانہ طرز عمل اختیار کررکھا ہے، میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں غیرشفافیت اتنی زیادہ ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ بے قاعدگی کے زمرے میں آتی ہے اسی طرح کا طرز عمل بلوچستان کے صوبائی محکمہ اطلاعات نے اختیار کررکھا ہے۔ سی پی این ای کے رہنماں نے بلوچستان کے وزیراعلی جام کمال خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کریں اور یہ دیکھیں کہ محکمہ اطلاعات اتنی زبوں حالی کاشکار کیوں ہے تعلقات عامہ کو ناتجربہ کار لوگوں کے رحم وکرم پرچھوڑاگیا ہے کیونکہ ڈمی اخبارات کی سرپرستی کیلئے ٹھیکہ داری کا نظام چل رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی پبلسٹی نہیں ہو رہی ہے بلکہ لوٹ مار کاتاثر عام ہے۔ سی پی این ای نے مطالبہ کیا ہے کہ جس اخبار کو جو اشتہار جاری ہوروزانہ اس کی تفصیل ویب سائٹ پر جاری کی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ محکمہ اطلاعات نے کن اخبارات کو سرکاری اشتہارات جاری کئے میں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرحکومت نے مداخلت کرکے معاملات درست نہ کئے تو سی پی این ای پرنٹ میڈیا کو بچانے کیلئے ہر ممکن جدوجہد کرے گی اور بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here