آزادی صحافت اور جمہوریت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں : شبلی فراز

0
1296

پریس ریلیز۔

تاریخ: 26 اگست 2020ء

آزادی صحافت اور جمہوریت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں : شبلی فراز

سی پی این ای صدر عارف نظامی کی قیادت میں سی پی این ای عہدیداروں کے وفد کی وفاقی وزیر اطلاعات اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات سے اسلام آباد میں ملاقات

اسلام آباد: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے صدر عارف نظامی کی قیادت میں سی پی این ای کے عہدیداروں کے وفد نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں آزادی صحافت کی صورتحال اور اخبارات کو درپیش مسائل سمیت دیگر امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ آزادی صحافت اور جمہوریت ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ہم ذاتی طور پر تمام درمیانے، چھوٹے درجے کے نیز علاقائی و مقامی اخبارات کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں سی پی این ای سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ ٹھوس پالیسی مرتب کریں گے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے یقین دلایا کہ وہ آزادی صحافت پر گہرا یقین رکھتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے میڈیا پر کسی قسم کے دباؤ پر مبنی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مجھے وزیر اطلاعات کی ذمہ داریاں میڈیا پر دباؤ بڑھانے کے لئے نہیں دیں بلکہ یہ کہا کہ میڈیا کے تمام واجبات ادا کئے جائیں اور میڈیا کے مسائل حل کئے جائیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم آزاد میڈیا پر یقین رکھتے ہیں اور اگر میڈیا پر کسی قسم کا کوئی دباؤ محسوس ہوتا ہے تو بلا جھجھک ہمیں مطلع کریں۔

اس سے قبل سی پی این ای کے صدر عارف نظامی نے بتایا کہ پاکستان کے میڈیا پر آزادی صحافت کے ضمن میں براہ راست اور بلواسطہ دباؤ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے میڈیا مالی مشکلات کے علاوہ بے شمار قسم کے تناؤ کا شکار ہے۔ جنگ جیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری اور بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے سے بھی اس تشویش اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

ملاقات میں سی پی این ای کے وفد نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کو بتایا کہ جس طرح ملکی معیشت میں سمال اور میڈیم انٹرپرائزز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ویسے ہی درمیانے، چھوٹے درجے کے نیز علاقائی و مقامی اخبارات بھی میڈیا کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ ان سے ہزاروں صحافیوں اور دیگر افراد کا روزگار وابستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اخبارات عوام کی مقامی سطح پر نہ صرف ترجمانی کرتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی انسانی وسائل کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ سی پی این ای کے وفد نے مزید بتایا کہ ملک کے اندر موجودہ صورتحال کے سبب شدید مسائل کی وجہ سے بحرانی کیفیت ہے، حکومت کو فوری طور پر توجہ دے کر اس بحران کا تدارک کرنا چاہئے۔ سی پی این ای نے مطالبہ کیا کہ اشتہاراتی پالیسی پر اپنی سفارشات پہلے ارسال کر دی ہیں لہٰذا سی پی این ای سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات کی روشنی میں نئی اشتہاراتی پالیسی کا فوری طور پر اعلان کیا جائے۔

ملاقات کے دوران وفاقی سیکریٹری اطلاعات اکبر حسین درانی اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر شہیرہ شاہد نے وفد کو مطلع کیا کہ ادائیگیوں کے نئے طریقہ کار جس میں 85 فیصد ادائیگیاں براہ راست اخبارات کو کی جانی ہیں کے مطابق اپریل 2020 میں جاری کردہ اشتہارات کی ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں تاہم سی پی این ای کے وفد نے اس بات کو باور کرایا کہ اس عمل کو مزید تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ آنے والے وقت میں براہ راست ادائیگیوں کے نظام کو شفاف اور تیز بنایا جائے گا۔

سی پی این ای نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اشتہارات کی تقسیم کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لئے انتہائی مرکزیت پر مبنی پریکٹس کو ختم کر کے پی آئی ڈی کے تمام صوبوں میں موجود علاقائی دفاتر اور سرکاری محکموں اور سرکاری اداروں کے میڈیا ڈپارٹمنٹس کے سابقہ اختیارات کو بحال کر کے ان کی سفارشات کو مدنظر رکھا جائے کیونکہ اربوں روپے مالیت کے سرکاری اشتہارات کی تقسیم کو اسلام آباد میں قائم پی آئی ڈی کے دفتر کے چند افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے انسانی غلطیوں، بدعنوانیوں اور اقربا پروریوں کے اندیشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا حسب سابق اشتہارات کی تقسیم میں اشتہارات جاری کرنے والے سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے میڈیا ڈپارٹمنٹس کی رائے کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ سرکاری اشتہارات کی صحیح اہداف تک رسائی ممکن ہو سکے۔ مزید برآں میڈیا اداروں کے گزشتہ 10 سالوں کے انکم ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی کی جائے۔ سی پی این ای نے نجی خبر رساں ایجنسیوں کے لئے قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری کے باوجود گزشتہ دو سالوں سے گرانٹ جاری نہ کرنے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر رساں ایجنسیوں کو فوری طور پر گرانٹ بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات جناب لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے ملاقات میں سی پیک پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ہماری زرعی معیشت میں آڑھتیوں کی وجہ سے اصل حقدار نقصان میں رہتے ہیں، اسی طرح میڈیا انڈسٹری میں بھی چند ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کی وجہ سے اخبارات و دیگر میڈیا کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بڑے میڈیا اداروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے مقامی میڈیا کو نظرانداز کرنے پر مبنی کوئی حکومتی پالیسی نہیں ہے بلکہ ہم مقامی میڈیا کے مسائل پر ضرور توجہ دیں گے۔ ملاقات میں اس پر اتفاق ہوا کہ سی پی این ای سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اشتہارات کی تقسیم سے متعلق ایک منصفانہ اور شفاف نظام ترتیب دیا جائے گا۔

وفد میں سی پی این ای کے صدر عارف نظامی، سیکریٹری جنرل ڈاکٹر جبار خٹک، سردار خان نیازی، ارشاد احمد عارف، انور ساجدی، ڈاکٹر حافظ ثناء اللہ خان، ایاز خان، کاظم خان، اعجازالحق، طاہر فاروق، غلام نبی چانڈیو، عبدالرحمان منگریو اور یوسف نظامی شامل تھے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here