سی پی این ای کے زیر اہتمام صدر عارف نظامی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

0
694

پریس ریلیز
تاریخ: 06 اگست 2021ء

لاہور (پ ر) کونسل آف نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام ایوان اقبال میں ممتاز صحافی، ایڈیٹر اور سی پی این ای کے صدر عارف نظامی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے اخبارات کے نامور ایڈیٹرز، دانشوروں اور مرحوم عارف نظامی کے قریبی ساتھیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ وہ صحافت کو عبادت سمجھ کر کرتے تھے۔ پارلیمانی جمہوریت پر زور دینا عارف نظامی کا خاصہ تھا، ان کی وفات سے پاکستان قابل فخر فرزند سے محروم ہو گیا ہے۔ عارف نظامی بجا طور پر پاکستان کے اعلی صحافی اور تجزیہ نگار تھے۔ ان کے والد ہی ان کے آئیڈیل تھے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے خبر ان کی تلاش میں رہتی تھی۔ گورنر پنجاب نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ جب عارف نظامی نے وزیر اعظم عمران خان کی شادی کی خبر دی تو چوہدری غلام حسین کا فون آیا کہ اس خبر میں کیا صداقت ہے میں نے کہا اگر عارف نظامی نے دی ہے تو انہوں نے تحقیق کر کے خبر دی ہو گی ، ان سے بات کر لیں۔ عارف نظامی صحیح معنوں میں تحقیقی صحافی تھے۔میرے لئے فخر ہے کہ میں ان کو 17-18 سال سے جانتا ہوں ہماری پہلی ملاقات ان سے برطانیہ میں ہوئی۔ ہمیں ان کی بیوی اور بچوں کے لیے احساس ہے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔ گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ اس وقت انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت ہے ان کو انڈیا کے مستقبل کی فکر نہیں ہے ان کی سیاست کا محور پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ وہ ہر وقت کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان جی ایس پی پلس سے محروم ہو جائے، بھارت کی ساری لابی یوروپین یونین میں ہمیں جی ایس پی پلس سے محروم کرنے کیلئے متحرک ہے۔ ہمارے صحافیوں کو بھی بھارتی لابیوں کے خلاف مل کر کام کرنا چاہیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے عارف نظامی کے تعزیتی ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عارف نظامی کا دنیا سے چلے جانا میرے لئے ایک ذاتی نقصان ہے۔ ایسا لگتا ہے ایک خلا جیسے زندگی میں آجاتا ہے۔ 70 کی دہائی میں جب میں صوبائی وزیر اطلاعات مقرر ہوا تو پنجاب کے صحافیوں سے تعارف ہوا شام کو میں عارف نظامی کے دفتر چلا جایا کرتا تھا۔ عارف نظامی نے مختلف شعبوں میں رپورٹنگ کی، پہلا اخبار جو بلینک چھپا وہ نوائے وقت تھا اور یہ نظریہ نوائے وقت کا تھا جب کبھی اہم خبریں لگانے سے روکا جاتا تو وہ خبر کی جگہ خالی چھوڑ دیتے تھے اور یہ عارف نظامی کی پروفیشنلزم کا خاصہ تھا۔ عارف نظامی شیریں گفتار اورنرم لہجے میں سخت بات کر جاتے تھے۔ سخت سوالات پر بینظیر کے گلے شکوے بھی جھیلنے پڑتے تھے۔ وہ خوش لباس بہت تھے۔ دیدہ زیب لباس تن زیب کرتے تھے، حس مزاح بہت تیز تھی۔ وہ ایک نڈر شخصیت تھے، کبھی خوف نہیں محسوس کرتے تھے۔ میرے والد ساری زندگی نوائے وقت کو حمید نظامی کے اخبار کے طور پر جانتے تھے۔ عارف نظامی نے کبھی ادب و آداب کی لائن نہیں چھوڑی۔ کسی اصول پر کبھی سمجھوتہ بھی نہیں کیا۔ عارف نظامی کے چلے جانے سے نقصان صحافت کا ہے، نقصان میڈیا مالکان کا ہے اور نقصان صحافی کا ہے۔ انہوں نے بھارتی سازشوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مودی ہے جو ہرقسم کی سازشیں کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچے، ہمارے ہر لفظ کو اٹھا لیتا ہے۔ مغربی سرحد پر ایک پوری خلا ہے اور افغانستان کے مسائل میں ہم کھینچے جائیں گے۔ ہم کہتے پھر رہے ہیں کہ بائیڈن ہمارے وزیر اعظم کو فون کر لیتے تو ہماری پالیسی اور ہوتی۔ موجودہ ساری صورتحال میں عارف نظامی کا خلا پر نہیں ہوسکتا۔ سی پی این ای کے قائم مقام صدر کاظم خان نے کہا کہ آپ سب لوگ سی پی این ای کے صدر کے تعزیتی ریفرنس میں نہیں آئے بلکہ ایک بڑے انسان کے تعزیتی ریفرنس میں شامل ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا وضع دار انسان نہیں دیکھا وہ ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان تھے۔ عارف نظامی اختلاف رکھتے تھے مگر نفرت نہیں کرتے تھے۔ نائب صدر سی پی این ایس اور گروپ ایڈیٹر 92نیوز ارشاد احمد عارف نے کہا کہ مرحوم دوست، بزرگ، بڑے بھائی کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کی۔ سی پی این ای کے پلیٹ فارم سے جب تعزیتی ریفرنس پلان کر رہے تھے تو کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ مقررین آجائیں گے لیکن کورونا کی وجہ سے سامعین نہیں آئیں گے لیکن میں نے کہا کہ لوگ عارف نظامی سے محبت کرتے ہیں وہ ضرور آئیں گے۔ عارف نظامی بڑے باپ کے بڑے بیٹے تھے۔ وہ اپنے والد کی وجہ سے بڑے نہیں تھے بلکہ وہ ہر مقام پر پورے قد کے ساتھ کھڑے رہے اور ثابت کیا کہ وہ بذات خود بڑے انسان تھے۔ عزت دینا ان کا شیوہ تھا، وہ تعلقات نبھانا جانتے تھے۔کئی مرتبہ اختلاف بھی ہوئے مگر انہوں نے کبھی برا نہیں منایا، یہ ان کا بڑا پن تھا۔ ارشاد احمد عارف نے مزید کہا کہ بطور صحافی وہ صحافتی اخلاقیات کو مد نظر رکھتے تھے۔ جب محترمہ بینظیر کی حکومت فارق لغاری نے ختم کی تو وہ خبر بھی عارف نظامی کے پاس تھی۔ حمید گل کو آئی ایس آئی کے منصب سے ہٹانے کی خبر بھی ان کے پاس تھی۔ عارف نظامی کو علم ہوتا تھا کہ اگر خبر میں دے رہا ہوں تو خبر کی مجھے تصدیق ہونی چاہئے اور جب خبر دیتے تھے تو کسی دبا میں نہیں آتے تھے۔میں نے تین شخصیات جن میں مجید نظامی، عارف نظامی اور مجیب الرحمن شامی سے بہت سیکھا ہے۔ ایکسپریس میڈیا کے گروپ ایڈیٹرایازخان نے کہا عارف نظامی ایک عہد تھا جو تمام ہوا، بہت کم لوگ ایسے ہیں جوبیک وقت بہترین رپورٹر،ایڈیٹر،کالم نویس اورتجزیہ کارہوتے ہیں، وہ بیک وقت اردو اور انگلش دو زبانوں میں لکھتے تھے، یہ ایک مشکل کام تھا مگرعارف نظامی نے بڑی کامیابی سے لکھا۔ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، وہ سب کوعزت اور احترام دیتے تھے۔ وہ صحافت میں ایک رول ماڈل ہیں۔ ایازخان کا کہنا تھا کہ عارف نظامی میں حس مزاح بہت زیادہ تھی، وہ سی پی این ای کے دوستوں کو مختلف ناموں سے پکارتے تھے۔ ایک ملنسار اور محبت کرنیوالے انسان تھے جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائیگی۔ ایاز خان نے کہا کہ وہ ایکسپریس میڈیا گروپ کی طرف سے عارف نظامی کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔ سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے عارف نظامی کی شخصیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عارف نظامی کا انتقال جہاں قومی سانحہ ہے وہاں ذاتی صدمہ بھی ہے۔ عید کے روز ان کے انتقال کی خبر سن کر بستر سے اٹھ نہیں پایا۔ عارف نظامی کی سنجییدگی، پیشہ ورانہ کمٹمنٹ، رپورٹر کے طور پر کام کیا، ڈپٹی ایڈیٹر اور اداریہ نویس بھی بنے۔ نیشن کی ساری ذمہ داری عارف نظامی کے سپرد تھی۔ نوائے وقت سے علیحدگی کا صدمہ بھی برداشت کیا۔ وہ ایڈیٹر تھے، تجزیہ نگار تھے اور انہیں سب اپنا سمجھتے تھے۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک رابطہ تھے۔ انہوں نے پسند نہ پسند کو صحافت پر غالب نہیں آنے دیا۔ اچھا صحافی وہ ہے جو باخبر، باعلم اور باکردار ہو جو تمام خوبیاں عارف نظامی میں موجود تھیں۔ عارف نظامی نے کبھی کسی تمغے کی طلب نہیں کی مگر اب وقت ہے کہ حکومت عارف نظامی کو قد کے مطابق ایوارڈ سے نوازے اور ان کے نام سے لاہور میں ایک سڑک ضرور منسوب کی جائے۔ وہ ہمارے بااعتماد ساتھی تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ معروف صحافی امتیاز عالم نے کہا کہ نظامی کا لفظ اس کے لیے شیلٹر کا باعث بھی تھے اور زنجیروں کا باعث بھی تھے۔ عارف نظامی کسی حکمران کا لئے پالک نہیں بنے۔ عارف نظامی ہر اعتبار سے ایک پروفیشنل صحافی تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے اتنے خبری ذرائع ہوں گے جتنے عارف نظامی کے تھے۔ میں نے عارف نظامی کی کبھی کسی کے منہ سے بد تعریفی نہیں سنی۔ عارف نظامی جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی صحافت کے علمبردار تھے ۔ سی پی این ای پنجاب کمیٹی کے صدر اور روزنامہ 92نیوزکے ایڈیٹرانچیف حیدر امین نے کہا کہ عارف نظامی نے ہمارے ساتھ ایک لمبا عرصہ گزارا، کبھی ان کے ایسے جذبات نہیں دیکھے کہ وہ کسی سے ناراض ہوں، 92نیوز کے ساتھ ایک لمبا عرصہ کام کیا اور پروگرام کرتے رہے ہمیشہ اپنی میٹنگز اور کام کو تسلسل کے ساتھ آ گے لے کر چلے بہت افسوس ہے کہ آج وہ ہمارے ساتھ موجود نہیں ہیں۔ وہ بہت بڑے صحافی تھے اللہ تعالی ان کے درجاب کی بلندی کرے۔ عارف نظامی کے بیٹے یوسف نظامی نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ زیادہ وقت کام نہیں کر سکا، بطور والد کبھی بات کرنے کی ضرورت پڑی تو جتنا ٹائم مانگتا تھا وہ دیتے تھے۔ عارف نظامی کی وفات پر آنے والی فون کالز سے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے رپورٹر اور ایڈیٹرز کو سپورٹ کیا ہے۔ انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کو کبھی بہت زیادہ غصہ نہیں آتا تھا۔ ان کے پیچھے ایک مضبوط شخصیت تھی اور وہ میری والدہ ہیں۔ سینئر صحافی جمیل اطہر قاضی نے کہا کہ موجودہ دو تین مہینے صحافت پر بھاری تھے۔ پہلے ضیا شاہد اور اب عارف نظامی جیسی شخصیات چلی گئیں۔ عارف نظامی کا نام ان کے کام سے روشن ہوا۔ عارف نظامی کو ایک اچھا انسان پایا۔ عارف نظامی نے کبھی خبر کا ذریعہ نہیں بتایا۔ ایسا مالک، ایڈیٹر اور صحافی اب کہاں دستیاب ہو گا۔ عارف نظامی بہادری اور جرات کا نشان تھے اب ہم ان کو ڈھونڈتے رہیں گے۔ پروگرام کے اختتام پر جناب عارف نظامی مرحوم کیلئے فاتحہ خوانی اور دعا کی گئی۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here