قاعدہ 145 کے تحت پیکا ترمیمی آرڈیننس کی منسوخی کے لئے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ،شہباز شریف نے پارٹی کو ہدایات جاری کر دیں

0
91

نیوز آئٹم

تاریخ: 28 فروری 2022ء

قاعدہ 145 کے تحت پیکا ترمیمی آرڈیننس کی منسوخی کے لئے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ،شہباز شریف نے پارٹی کو ہدایات جاری کر دیں

ضابطے کے مطابق کسی آرڈیننس کو منسوخ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش کی جاتی ہے

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ریکوزیشن جمع کرانے کا بھی فیصلہ

وفد پی بی اے، سی پی این ای، اے پی این ایس اور ایمینڈ کی قیادت پر مشتمل تھا، شہبازشریف کا میڈیا کی آزادی کی جدوجہد پر کمیٹی کو خراج تحسین

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف سے میڈیا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ملاقات

لاہور (مورخہ 28 فروری 2022) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے میڈیا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو یقین دلایا ہے کہ اگر اللہ تعالی نے موقع دیا تو پاکستان مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا کے خلاف سیاہ، آمرانہ اوراظہار رائے و اطلاعات تک رسائی کی آئینی آزادیوں کے منافی قانون کو منسوخ کردے گی۔ یہ یقین دہانی انہوں نے پیر کو میڈیا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین سے ملاقات میں کرائی۔ قائد حزب اختلاف سے ملاقات کرنے والے وفد میں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (سی پی این ای)، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) اور ایسوسی ایش آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز ( ایمینڈ) کے قائدین شامل تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نے قاعدہ 145 کے تحت پیکا ترمیمی آرڈیننس کی منسوخی کے لئے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضابطے کے مطابق کسی آرڈیننس کو منسوخ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش کی جاتی ہے جس کی ایوان سے منظوری کے بعد متعلقہ آرڈیننس منسوخ ہو جاتا ہے۔ شہباز شریف نے میڈیا کے خلاف کالا قانون منسوخ کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ریکوزیشن کرنے کی درخواست پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور پارٹی راہنمائوں کو اس ضمن میں عملی اقدامات کرنے کے لئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ شہباز شریف نے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پیکا ترمیمی قانون عدالت میں چیلنج کرنے کے فیصلے کی تائید و حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس کو موجودہ حکومت کی آمرانہ، فسطائی اور غیر جمہوری سوچ کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم ان ترامیم کو مسترد کرتے ہیں اور ان تمام کالے قوانین کو ہر قانونی فورم پر چیلنج کریں، ان کا راستہ روکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا آئینہ ہے جس میں حکمران اپنا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تو انہیں اپنے چہرے کے خدوخال کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ حکمران اس غلط فہمی میں ہیں کہ شاید وہ جیلوں، سزاؤں، قید، جرمانوں اور کالے قوانین سے حق گوئی کو بھی پابند سلاسل کرسکتے ہیں۔ ایسا نہ ماضی میں ہوا نہ ہی اب ہوسکتا ہے۔ شہبازشریف نے میڈیا کی آزادی اظہار اور حق گوئی کے لئے تاریخی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ کے کئی مرحلوں پر میڈیا نے اپنی آزادی کی ناقابل فراموش جنگ لڑی ہے۔ قائد حزب اختلاف نے کہاکہ حکومت بدنیت نہ ہوتی تو یہ مسودہ پارلیمنٹ میں آتا، آرڈیننس کا چور دروازہ نہ استعمال کیاجاتا۔ موجودہ حکومت ہر محاذ پر اپنی بدترین اور تاریخی ناکامیاں چھپانے کے لئے میڈیا کی آنکھ ، زبان اور کان بند کرنا چاہتی ہے۔ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ شہبازشریف نے میڈیا کی آزادی اور کالے قوانین کے خلاف میڈیا کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا اور اس مقصد کے حصو ل کے لئے اپنی جماعت اور بطور قائد حزب اختلاف مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here