پیکا آرڈیننس، حکومت کا صحافیوں اور عوام کے ساتھ امتیازی سلوک، میڈیا کی آزادی پر مکمل یقین، چودھری پرویزالٰہی

0
122

*نیوز آئٹم*
تاریخ: یکم مارچ 2022ء

پیکا آرڈیننس صحافی برادری اور عوام کے ساتھ حکومت کا امتیازی سلوک ہے، میڈیا کی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ہیں، چودھری پرویزالٰہی

اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے پی بی اے، اے پی این ایس، سی پی این ای اور ایمنڈ کے قائدین کی ملاقات

پاکستان مسلم لیگ نے الیکٹرانک میڈیا کے ریکارڈ لائسنس جاری کیے، اپنے دور حکومت میں بھی میڈیا کی تنقید کو کھلے دل سے قبول کیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور ( ) اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (PBA)، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (APNS)، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (CPNE) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (AEMEND) کے رہنماؤں نے اسمبلی چیمبر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے میاں عامر محمود چیئرمین، شکیل مسعود، چوہدری عبدالرحمن، محسن نقوی، سی پی این ای کے صدر کاظم خان، اعجاز الحق، ارشاد احمد عارف، یوسف نظامی، اے پی این ایس کے صدر سرمد علی، ناز آفرین سہگل، عمر شامی، شہاب زبیری اور ایمینڈ کے محمد عثمان، ایاز خان اور میاں طاہر شامل تھے۔ اسپیکر چودھری پرویزالٰہی نے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے پیکا آرڈیننس میں ترمیم کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیکا آرڈیننس صحافی برادری اور پاکستان کے عوام کے ساتھ حکومت کا امتیازی سلوک ہے، میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، ہم اس کی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ میڈیا کی آزادی پاکستان کی ترقی کیلئے بھی بہت ضروری ہے، میڈیا کی آزادی پر کسی قسم کی بھی قدغن لگانا ہمارے اپنے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ میڈیا کی آزادی اور اس کے ورکرز کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا، آزاد میڈیا پاکستان کی سلامتی اور بقا کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کے دور حکومت میں الیکٹرانک میڈیا کے ریکارڈ لائسنس جاری ہوئے، اپنے دور حکومت میں بھی میڈیا کی تنقید کو کھلے دل سے قبول کیا، میڈیا کی تنقید سے ہمیشہ اصلاح کا پہلو لیا۔ ملاقات میں اس موقع پر سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی بھی موجود تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here