سی پی این ای کا اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس غیر آئینی قرار دینے پر خوشی کا اظہار

0
154

پریس ریلیز
تاریخ: 08 اپریل 2022ء

سی پی این ای کا اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس غیر آئینی قرار دینے پر خوشی کا اظہار

آزادی اظہار کی آئینی آزادیوں کے منافی اور میڈیا دشمن آرڈیننس کے نفاذ سے صحافتی اقدار کو شدید ٹھیس پہنچی

عدلیہ کے فیصلے سے فسطائیت اور آمریت زدہ قانون سے عوام، میڈیا اور صحافیوں کو نجات ملی ہے، صدر سی پی این ای

سی پی این ای نے مشترکہ جدوجہد کے ذریعے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی، کاظم خان

آئین پاکستان اور آزادی اظہار کے تحفظ پر عدلیہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، سی پی این ای

کراچی ( پ ر) کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022ء کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دینے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سی پی این ای کے صدر کاظم خان اور سیکریٹری جنرل عامر محمود سمیت تمام اراکین نے آئین پاکستان اور آزادی اظہار کے تحفظ پر عدلیہ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی اظہار کی آئینی آزادیوں کے منافی اور میڈیا دشمن آرڈیننس کے نفاذ سے صحافتی اقدار کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ آئین کا تحفظ ہر ایڈیٹر اور صحافی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہی جمہوری روایات پروان چڑھتی ہیں جس کے برعکس آمرانہ سوچ کی حامل موجودہ حکومت میڈیا اور صحافیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہے۔ نتیجتاً میڈیا دشمنی پر مبنی قوانین اور ترامیم نافذ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ سی پی این ای نے میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے توسط سے پیکا کے فسطائیت اور آمریت زدہ قانون کے خلاف بھرپور احتجاجی مزاحمت اور جدوجہد کی۔ سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے میڈیا اداروں، صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے فیصلے سے ملک کی صحافت ان ناروا ہتھکنڈوں سے بچ گئی ہے جس کا حاکم وقت ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کر سکتا ہے۔

جاری کردہ: کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here